رسائی کے لنکس

سینیگال میں ایبولا کا پہلا کیس رپورٹ


ڈبلیو ایچ او نے وبا کے پھیلنے کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب تک سامنے آنے والے کیسز میں سے 40 فیصد صرف گزشتہ 21 روز میں رپورٹ ہوئے

سینیگال میں ایبولا سے متاثرہ پہلا کیس سامنے آنے کے بعد مغربی افریقہ میں اس وائرس کے پھیلاو کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت ایک طبی کارکن کے اس وائرس کا شکار ہونے کے بعد سیرالیون میں اپنا ایک تشخیصی مرکز بند کر چکا ہے۔

گنی میں ریڈ کراس کے ایک عہدیدار کے مطابق ملک کے دوسرے بڑے شہر میں ان افواہوں کے بعد کہ یہاں بھی وائرس سے لوگ متاثر ہوئے ہیں، فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے وبا کے پھیلنے کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب تک سامنے آنے والے کیسز میں سے 40 فیصد صرف گزشتہ 21 روز میں رپورٹ ہوئے۔ اس کے بقول اس خطے میں ایبولا وائرس 20 ہزار تک لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

جمعہ کو سینیگال کی وزیر صحت اوا ماری کول سیک نے اعلان کیا کہ ان کا ملک ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والا خطے کا پانچواں ملک بن گیا ہے۔ اس وائرس سے گنی، لائبیریا اور سیرالیون میں 1500 سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نائیجیریا میں بھی گزشتہ ماہ سے اب تک 15 کیسز سامنے آئے جن میں چھ کی موت واقع ہو چکی ہے۔

کول سیک نے صحافیوں کو بتایا کہ سینیگال میں سامنے آنے والا کیسز گنی کا ایک یونیورسٹی طالب علم ہے جو گزشتہ ہفتے ڈاکار کے اسپتال میں علاج کے آیا۔

ادھر یوایس سنٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن نے متنبہ کیا کہ یہ وبا مغربی افریقہ کے باہر تک پھیل سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG